سالگرہ پر اردو اشعار
0 1 min 8 mths
خلوص کا اظہار کیجئے

سالگرہ کے پرمسرت لمحوں پراردو اشعار

سالگرہ پر اردو اشعار
سالگرہ پر اردو اشعار

سالگرہ پر اردو اشعار انسان کے اپنے یوم پیدائش سے زیادہ اہم اور خوبصورت دن اس کے لئے اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھردیتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ہلکے سے لمس سے سبھال لیتی ہے ۔ سالگرہ سے وابستہ اور بھی کئی ایسے گوشے ہیں جنہیں شاید آپ نہ جانتے ہوں اور کچھ ہم سے زیادہ بھی جانتے ہونگے ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور لطف اندوز ہوجائیں. میں امید کرتا ہوں آپکو یہ ہماری کاوش پسند آئیگی. سالگرہ کے لمحے ہم اپنے جذبات کا اظہار باز اوقات شاعری سے کرتے ہیں

سالگرہ پر اردو اشعار

اٹھا کے ہاتھ خدا سے بس مانگی ہے یہی دعا
نصیب ہوں خوشیاں تمہیں، تم خوش رہو سدا

مبارک تجھے تیری سالگرہ ہو
آنے والا ہر سال خوشیوں سے بھرا ہو
تیرے ارد گرد بہاروں کا رقص ہو
آئینہ تیری خوبصورتی کا عکس ہو
منزلیں خود تیرے قدموں میں‌ آئیں
حسین پریاں تیرے سپنوں میں آئیں
تجھے کبھی کوئی نہ مصیبت ملے
ملے تو ہر لمحہ اچھی قسمت ملے
سب لوگ تیرے گُن گانے لگیں
تُو گھر سب کے دلوں میں بنانے لگے
بلندیاں تیرے قدم چومیں
مسرتیں ‌تیرے چار سُو گھومیں
تیری پوری ہر کوئی خواہش ہو
جنت تیری اگلی رہائش ہو
مبارک تجھے تیری سالگرہ ہو
آنے والا ہر سال خوشیوں‌ سے بھرا ہو

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو
تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو
کبھی نہ آئے کوئی غم قریب تمہارے
جہاں میں سب سے اچھے ہوں نصیب تمہارے
خلوص، پیار بھری دوستی مبارک ہو
تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

زندگی بھر یہ آسماں تجھ کو
کسی آفت میں‌مُبتلا نہ کرے

یہ بہاریں‌ جہاں جہاں جائیں
کوئی تجھ کو ان سے جدا نہ کرے

تیری زندگی کی روشنی کو خُدا
کسی ظلمت سے آشنا نہ کرے

کِھلتے پھولوں کی رِدا ہو جائے
اِتنی حسّاس ہوا ہو جائے
مانگتے ہاتھ پہ کلیاں رکھ دے
اِتنا مہربان خُدا ہو جائے!!!

تمھاری سالگرہ پہ یہ دُعا ہے میری۔۔۔۔۔۔۔
کہ ایسا روزِ مبارک ہزار بار آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھاری ہنستی ہوئی زندگی کی راہوں میں
ہزاروں پُھول لٹاتی ہوئی بہار آئے ۔۔۔۔۔۔!!!!!

رفعتیں اور بلندی بھی تجھ پہ ناز کرے
تیری یہ عمر خدا اور بھی دراز کرے

حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

جو خوشی تمہارے قریب ہو
وہ سدا تمہیں نصیب ہو
تجھے وہ خلوص ملے کہ
جو تیری زندگی پہ محیط ہو
جو خیال دل میں اسیر ہو
اور دعا میں بھی تاثیر ہو
تجھے وہ جہان ملے
جدھر غموں کا نہ گزر ہو
جدھر روشنی ہو خلوص کی
اور نفرتوں کو خبر نہ ہو

تمہاری سالگرہ پر
​یہ چاند اور یہ ابرِ رواں گذرتا رہے
​جمالِ شام تہہ آسماں گزرتا رہے
​بھرا رہے تری خوشبو سے تیرا صحنِ
چمن ​بس ایک موسمِ عنبر فشاں گزرتا رہے
​سماعتیں ترے لہجے سے پھول چنتی رہی​ں
دلوں کے ساز پہ تو نغمہ خواں گزرتا رہے
​خدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں
​دیارِ وقت سے تو شادماں گزرتا رہے​
میں تجھ کو دیکھ نہ پاؤں تو کچھ ملال نہیں​
کہیں بھی ہو’ تو ستارہ نشاں گزرتا رہے
​میں مانگتی ہوں تری زندگی قیامت تک
​ہوا کی طرح سے تو جاوداں گزرتا رہے​
مرا ستارہ کہیں ٹوٹ کر بکھر جائے
​فلک سے تیرا خطِ کہکشاں گزرتا رہے
​میں تیری چھاؤں میں کچھ دیر بیٹھ لوں​
اور پھرتمام راستہ بے سائباں گزرتا رہے
​یہ آگ مجھ کو ہمیشہ کئے رہے روشن​
مرے وجود سے تو شعلہ ساں گزرتا رہے
​میں تجھ کو دیکھ سکوں آخری بصارت تک​
نظر کے سامنے بس اک سماں گزرتا رہے
​ہمارا نام کہیں تو لکھا ہوا ہو
گا​مہ ونجوم سے یہ خاکداں گزرتا رہے
​میں تیرا ساتھ نہ دے پاؤں پھر بھی
تیرا سفر​گلاب و خواب کے ہی درمیاں گزرتا رہے
​میں تیرے سینے پہ سر رکھ کے وقت بھول گئی
​خیالِ تیزئ عمرِ رواں گزرتا رہے​

شاعرہ : پروین شاکر – کفِ آئینہ​

تیرے اس جنم دن پر
سوچ کا ہر ایک منظر
ہے بہت ہی جاں پرور
کتنی اچھی لگتی ہیں
ساعتیں جنم دن کی
سب کے ساتھ خوش رہنا
چھوٹی چھوٹی باتوں پر
کھلکھلا کے ہنس دینا
ان حسین لمحوں میں
آرزو ہے یہ میری
یوں نہ چپ رہا جائے
پاس جا کے دھیرے سے
سر کو رکھ کے کاندھے پہ
کیوں نہ یہ کہا جائے
خوشیاں سب مبارک ہوں
آپ کو اس جنم دن کی
آپ کے لئے یہ حسین دن
بے شمار خوشیاں لائے
اور آپ کی زندگی میں
کوئی بھی دکھ نہ آئے
سالگرہ مبارک​

وقت دعا میں دل سے ایک دعا کروں
میں رب کائنات سے یہ التجا کروں
توں خوش رہے ، توں شاد رہے
تیرے دل کا آنگن آباد رہے
توں ہر پل یوں ہی ہنسا کرے
توں پھولوں کی مانند کھلا کرے
تیری زندگی میں کوئی غم نہ ہو
تیری آنکھ کبھی پرنم نہ ہو
تجھے کسی سے کوئی گلہ نہ ہو
کوئی دکھ تجھے ملا نہ ہو
تیری رد کبھی دعا نہ ہو
تیرے لب پہ کوئی آہ نہ ہو
تجھے بن مانگے وہ عطا کرے
تیری معاف ہر ایک خطا کرے

تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

مرزا اسد اللہ خان غالب

سالگرہ کی شام مبارک
شام کے لب پ
میری یاد
مچلتئ رہنے دینا

اپنے حصے کی سب شمعیں
گُل کر دینا__لیکن
میرے نام کی آدھی شمعیں
جلتی رہنے دینا

شاعر:: محسن نقوی

سالگرہ کی مبارک باد سے متعلق تازہ ترین پوسٹس کے لئے ہمارا فیس بک پیج دیکھیں

اگر آپ دوستوں کے لئے سالگرہ کی مبارکبادیں پڑھنا چاہتے ہیں تو براہ کرم ہماری پوسٹ کو پڑھیں۔ دوستوں کے لئے سالگرہ مبارکباد – سالگرہ بہت بہت مبارک ہو


خلوص کا اظہار کیجئے

Leave a Reply