سرکش نوجوان کی توبہ
0 1 min 5 mths
خلوص کا اظہار کیجئے

سرکش نوجوان کی توبہ کا دل دہلانے دینے والا واقعہ پڑھ کر آپ کو دل میں خوف خدا بھی محسوس ہوگا. اور چیزوں کو اپنی نظر سے دیکھنے کے زاویے میں بھی رد و بدل بھی محسوس ہوگا. اپنے احباب کے ساتھ یہ تربیتی درس پر مبنی پوسٹ ضرور بانٹیں. کیوں کے اس نفسانفسی کے عالم میں اچھی چیزیں بھی بانٹنا صدقہ ہے

موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک سرکش نوجوان تھا. اس کے بدکردار ہونے کی وجہ سے بستی والوں نے اسے بستی سے ہی نکال دیا. چند دن تک وه زنده رہا لیکن جب اسباب زندگی ختم ہو گئے. تو شہر سے باہرغیرآباد میدان میں سسکتے سسکتے اسے موت آگئی-
الله تعالی نے موسی علیہ السلام کو وحی بهیجی کہ میرے ایک ولی کا انتقال ہو گیا ہے، وہاں پہنچ کر اس کو غسل دیں اور اس کی نماز جنازه پڑهائیں اور یہ اعلان کردیں کہ جس شخص کے گناه زیاده ہوں وه اس کے جنازے میں شریک ہو تا کہ میں اس کے گناه بخش دوں اور اس کو میرے پاس اٹھا کرلے آؤ [یعنی دفناؤ] تا کہ میں اس کا اکرام کروں .
موسی علیہ السلام نے اعلان کیا تو بہت سے لوگ جمع ہو گئے. اور جب اس کے پاس پہنچے تو اس کو پہچان لیا-
انهوں نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ. ” اے الله کے نبی یہ تو وہی فاسق ہے جسے ہم نے بستی سے نکال دیا تھا
حضرت موسی علیہ السلام یہ سن کر تعجب میں پڑ گئے.

سرکش نوجوان کی توبہ

موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک سرکش نوجوان

الله تعالی نے حضرت موسی علیه السلام کی طرف وحی بهیجی کہ یہ لوگ ٹهیک کہتے ہیں. لیکن جب اس بیابان میں اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے دائیں بائیں دیکھا. اسے کوئی دوست اور کوئی رشتہ دار نظر نہ آیا. اور خیال کیا کہ میں اس بیابان میں اکیلا ، اجنبی اور ذلت کی حالت میں پڑا ہوا ہوں. اس نے میری طرف آنکھ اٹھائی اور کہا
“الہی عبدمن عبادک غریب فی بلادک ، لو علمت ان عذابی یزید فی ملکک وعفوک عنی ینقص من ملکک لما سألتک المغفره ، ولیس لی ملجأ ولا رجاء الا أنت، سمعت فی ما انزلت انک قلت انی انا الغفور الرحیم ، فلا تخیب رجائی”

میں تیرے بندوں میں سے ایک بنده ہوں

اے الله
میں تیرے بندوں میں سے ایک بنده ہوں. تیری سلطنت میں اجنبی ہوں. اگر میں یہ جان لیتا کہ مجھے عذاب دینا تیری سلطنت کو بڑھائے گا. اور مجھے معاف کرنا تیری بادشاہت کو گھٹائے گا تو میں تجھ سے بخشش کا سوال نہ کرتا ،
تیرے سوا میرا کوئی ٹھکانہ اور جائے امید نہیں. اور جو تو نے اپنی نازل کرده کتاب میں فرمایا ہے که بے شک میں بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہوں. یہ میں سن چکا ہوں ، لہذا مجھے ناامید نہ کر

میں بیگانے کا ٹھکانہ ہوں

اے موسی

کیا مجھے اچھا لگتا کہ میں اس کی دعا کو رد کردیتا ، جبکہ یہ اس حال میں اجنبی تھا. اس نے میری طرف مجھے ہی وسیلہ بنایا اور میرے سامنے زاری کی ، میری عزت کی قسم
اگر یه روئے زمین کے تمام گناہ گاروں کے لیئے مجھ سے بخشش کا سوال کرتا. تو میں انهیں بخش دیتا. اس کی اجنبیت کی ذلت کی وجہ سے اے موسی
میں بیگانے کا ٹھکانہ ہوں اور اس کا حبیب ہوں. اور اس کا طبیب ہوں اور اس پر شفقت کرتا ہوں

ضروری گزارش: تازہ تازہ سالگرہ مبارک کی پوسٹ کے ہمارے فیس بک پیج کولائک اور فالو کریں


مزید سبق آموز
پوسٹ کے لئے ہماری پوسٹ پڑھیے. – پیار میں علیحدگی جدائی کیوں غصہ جیت اور رشتہ ہار جاتا ہے


خلوص کا اظہار کیجئے

Leave a Reply