شاعری سالگرہ دن کی
0 1 min 1 yr
خلوص کا اظہار کیجئے

شاعری سالگرہ دن کی – سالگرہ پر اردو اشعار انسان کے اپنے یوم پیدائش سے زیادہ اہم اور خوبصورت دن اس کے لئے اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھردیتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ہلکے سے لمس سے سبھال لیتی ہے ۔ سالگرہ سے وابستہ اور بھی کئی ایسے گوشے ہیں جنہیں شاید آپ نہ جانتے ہوں اور کچھ ہم سے زیادہ بھی جانتے ہونگے ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور لطف اندوز ہوجائیں. میں امید کرتا ہوں آپکو یہ ہماری کاوش پسند آئیگی. سالگرہ کے لمحے ہم اپنے جذبات کا اظہار باز اوقات شاعری سے کرتے ہیں

اور انسان الگ الگ کیفیات سے گزرتا رہتا ہے اور ان کے خیالات کو اپنے احساسات اور خیالات کے ذریعے شاعری میں ڈھالتا رہتا ہے

اور زندگی کے کئی ایسے پہلو ہیں جن کو اظہار کرنے کے لیے ہمیں اچھے الفاظ کا چناؤ کرنا پڑتا ہے

اور ان الفاظ کی اشد ضرورت پڑتی ہے جب ہمارے لئے سامنے کوئی موقع بھی ہے دستور بھی ہو

آئے دن ہمارے کسی دوست مہربان رشتہ دار یا جان پہچان والے کی سالگرہ کا دن آتا رہتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ انہیں اچھے سے پیش کریں

اور ان کی خوشیوں میں شریک ہو کر ہم اپنی خوشی کا اظہار کریں اور اپنی خوشی سے ان کی زندگی میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالیں

شاعری سالگرہ دن کی
شاعری سالگرہ دن کی

شاعری سالگرہ دن کی

تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے
آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گی
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

یہ تو اک رسم جہاں ہے جو ادا ہوتی ہے
ورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہے

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو
تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

تم سلامت رہو قیامت تک
اور قیامت کبھی نہ آئے شادؔ

ہمارا زندہ رہنا اور مرنا ایک جیسا ہے
ہم اپنے یوم پیدائش کو بھی برسی سمجھتے ہیں

ایک برس اور بیت گیا
کب تک خاک اڑانی ہے

سالگرہ پر کتنی نیک تمنائیں موصول ہوئیں
لیکن ان میں ایک مبارک باد ابھی تک باقی ہے

خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کی
تمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہو

ہماری زندگی پر موت بھی حیران ہے غائرؔ
نہ جانے کس نے یہ تاریخ پیدائش نکالی ہے

زندگی بھر یہ آسماں تجھ کو
کسی آفت میں مبتلا نہ کرے

خدا کرے کہ یہ دن بار بار آتا رہے
اور اپنے ساتھ خوشی کا خزانہ لاتا رہے

خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول
ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول

گھرا ہوا ہوں جنم دن سے اس تعاقب میں
زمین آگے ہے اور آسماں مرے پیچھے

جائے گی گلشن تلک اس گل کی آمد کی خبر
آئے گی بلبل مرے گھر میں مبارک باد کو

ضروری گزارش: تازہ تازہ سالگرہ مبارک کی پوسٹ کے ہمارے فیس بک پیج کولائک اور فالو کریں

مزید شاعرانہ پوسٹ کے لئے ہماری پوسٹ پڑھیے – سالگرہ پر اردو اشعار پرمسرت لمحوں کے تم سلامت رہو ہزار برس


خلوص کا اظہار کیجئے

Leave a Reply