شب معراج
0 4 mths
خلوص کا اظہار کیجئے

شب معراج مبارک
آج پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی شب معراج آج عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جائیگی۔ سالگرہ پی کے ادارہ کی طرف سے سب کو شبِ معراج مبارک

علمائے کرام آج ملک بھر کی مساجد میں شب معراج کی عظمت وفضیلت پرعقیدت و تعظیم سے روشنی ڈالیں گے۔ رسول کریمؐ صلے الله علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے بیشمار تحفے نوازے جس میں ملاقات ، گفتگو اور نماز کے تحفے شامل ہیں. اورنماز کو معراج مومن سے تعبیر فرمایا۔
مقدس معراج میں اللہ پاک کی قدرت کی عظیم نشانیاں موجود ہیں. جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبرؐ علیہ السلام کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھانے کے لیے تشریف آوری کے لئے بلایا تو اس میں کتنا وقت لگا ہوگا؟ اس کا اندازہ سہی سے نہیں کیا جاسکتا۔

معراج رات

پیغمبر اکرمؐ کی معراج کے حوالے سے ایران کے معروف آرٹسٹ محمود فرشچیان کا ہنری شاہکار۔ اس بورڈ کا طول و عرض 101* 81.5 ہے اور تقریبا ڈیڑھ سال کے عرصے میں مکمل ہوا جسے بعد میں امام رضاؑ کے حرم کو اہدا کیا گیا ہے۔

شبِ معراج مبارک

معراج، عام فہم میں، رسول خداؐ کے مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف سفر کو تصور کیا جاتا ہے ۔ اسلامی مآخذ کے مطابق رسول اللہ ایک رات مسجد الحرام سے مسجد اقصی گئے. پھر وہاں سے آسمان کی جانب سفر پر گئے. اس رات آپ نے بعض ملائکہ کوبھی دیکھا اور ان سے گفتگو کی. نیز اہل جنت اور اہل جہنم کا بھی مشاہدہ کیا۔ کچھ روایات کے مطابق آپ نے بعض پیغمبروں سے بھی ملاقات کی اور گفت شنید ہوے خدا اور آپ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو حدیث معراج بھی کہا جاتا ہے۔
معراج لغت میں سیڑھی یا ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے اوپر جایا جائے یا نیچے سے بلندی کی جانب اٹھا جائے، چلا جائے یا ابھرا جائے. حاصل مطلب یہ عروج ہے.

شب معراج اسلامی تاریخ کا بہت ہی اہم ترین اور خاص واقعہ

شب معراج اسلامی تاریخ کا بہت ہی اہم ترین اور خاص واقعہ ہے۔ سوره اسراء کی پہلی آیت کے دو الفاظ ” لیلاً و اَسری” سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج رات کے وقت ہی ہوئی

شب معراج
شب معراج

سورۂ بنی اسرائیل میں شبِ معراج کے بیان کا مفہوم ہے. ” پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک”. “جس کے اردگرد کو اس نے برکت دی”. “تاکہ اسے اپنی قدرت کے کچھ نمونے دکھائے۔ حقیقت میں وہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے”۔


خلوص کا اظہار کیجئے

Leave a Reply