عید کا دن ہے گلے مل لیجے
0 1 min 2 mths
خلوص کا اظہار کیجئے

عید مبارک شاعری: ایک تو بندہ عاشق ہو اور دوسرا سونے پی سہاگہ شاعر بھی ہو تو کام گیا. خوشی کا موقعا ہو یا کوئی اور چیز وو اپنے خیال مرزا غالب کی طرح یوں بیان فرمائیں گے 

جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام
دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کی شاد نہیں

خیر قصہ مختصر – ہم کو بھی دل میں سوجھا کے کیوں نہ ہم بھی اس عید پر کچھ شاعری آپ احباب کے گوش گذار کریں. لہذا حاضر ہے کچھ عید مبارک کی خوبصورت شاعری کے نمونے. امید کرتے ہیں آپ دوستوں کویہ عید شاعری پسند آئیگی. سالگرہ ڈاٹ پی کے ایک خالص سالگرہ مبارک کی نیک خششات پر مبنی پیغامات کا آن لائن اردو کا ایک بڑا جریدہ ہے، تاہم خوشی کے جو بھی تہوار ہوتے ہیں ان پر ہم ضرور طبع آزمائی کرتے ہیں تاکے آپ کو کچھ اچھا اور ڈھنگ کا پڑھنے لائق مواد پیش ہوسکے .

عیدالفطر کی بازگشت ہے اور عید سے متعلق ہم نے کچھ عید پیغام بھی پیش کر چکے ہیں جو آپ احباب نے پسند بھی فرماۓ ہیں. آپ نے انکو کھو دیا ہے تو آپ کی آسانی کے لئے ان مراسلوں کی لنک پیش کرتے ہیں. میرے سپاھی عید مبارک – سرحد پار شہزادوں کو عید مبارک , دوستوں کو عید مبارک پیغام جو سارا سال سوشل میڈیا پر سر کھاتے رہتے ہیں , عید الفطر مبارک پیغامات ان کے نام جو اسلام اور وطن کی خوشبو سے سرشارہیں , میری جان عید مبارک – عیدالفطر کا پیغام کسی خاص کے لئے, عید مبارک کے پیغامات – عید الفطر بہت بہت مبارک, عید الفطر ضرور پڑھیے اور خاندان بمع دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کیجئے.

عید مبارک شاعری میں پڑھیے بہترین اردو میں عیدالفطر کے موضوع پر شاعری

ہمارے سوشل نیٹ ورک فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر پنٹرسٹ پر ہمیں پسند فرما کر ہماری تازہ ترین اطلاعات سے با خبر رہ سکتے ہیں. اگر آپ ہمارے اس ویب سائٹ پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کو خوش آمدید. رابطہ فرمائیں اس شاعرانہ عید کے انتخاب کے لئے ہم نے کچھ آن لائن ویب سائٹ سے بھی استفاذا لیا ہے ان احباب کا بہت بہت شکریہ. ان نمایاں فیس بک، ریختہ ، اردو ویب فورم، سیڈ پوئیٹری وغیرہ شامل ہیں.

عید شعر

شعر غزل کے اک حصے کو کہتے ہیں ۔ شعر کی سطر کو مصرہ کہا جاتا ہے، اشعار پہ مشتمل مجموعہ کو غزل کہتے ہیں ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ پہلے مصرعے کو مصرع اولیٰ اور دوسرے کو مصرع ثانی کہتے ہیں غزل میں موجود اشعار کے مختلف نام ہیں پہلے شعر کو مطلع کہا جاتا ہے جس کے دونوں مصروں میں قافیہ اور ردیف استمال ہوتا ہے غزل کے آخری شعر کو مقطع کہا جاتا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

عید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا
کہ ترے یار کو ہم تجھ سے ملا دیتے ہیں 

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو
ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو 

وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو  ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو
وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو

عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوس 
جس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس 

ہے عید کا دن آج تو لگ جاؤ گلے سے
جاتے ہو کہاں جان مری آ کے مقابل
مصحفی غلام ہمدانی

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ 
اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے 
اسلم کولسری

اس مہرباں نظر کی عنایت کا شکریہ
تحفہ دیا ہے عید پہ ہم کو جدائی کا 

عید مبارک شاعری
عید مبارک شاعری

عید پر خوبصورت شعری مجموعہ بمع تصاویر – عید مبارک شاعری

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں 
عید ہے اور ہم کو عید نہیں 
بیخود بدایونی

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے
راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے 
آبرو شاہ مبارک

عید کے بعد وہ ملنے کے لیے آئے ہیں
عید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعد 

عید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعد

عید مبارک کی خوبصورت شاعری

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے 
محمد اسد اللہ

شہر خالی ہے کسے عید مبارک کہیے
چل دیے چھوڑ کے مکہ بھی مدینہ والے
اختر عثمان

آئی عید و دل میں نہیں کچھ ہوائے عید
اے کاش میرے پاس تو آتا بجائے عید

غریب ماں اپنے بچوں کو پیار سے یوں مناتی ہے
پھر بنا لیں گے نئے کپڑے یہ عید تو ہر سال آتی ہے

عید مبارک شاعری عید تو ہر سال آتی ہے
عید تو ہر سال آتی ہے

مجھ کو تیری نہ تجھ کو میری خبر جائے گی
عید اب كے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

عید آئی ہے مسرت کے پیامی بن کر
وہ مسرت جو تیری دید سے وابستہ ہے

ہم نہ مانیں گے عید آئی ہے
آپ آتے تو عید بھی آتی

عید کا دن گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

دعا ھے آپ دیکھیں زندگی میں بے شمار عیدیں
خوشی سے رقص کرتی مسکراتی پر بہار عیدیں

شاید تم آ ؤ میں نے اِسی انتظار میں
اب کے برس کی عید بھی تنہا گزار دی

عید آئی تم نہ آئےکیامزا ہے عید کا
عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا

اِس عید پر پِھر ساتھ ہیں میرے
پَردیس تنہائی اور بس تیری یادیں

خود تو آیا نہیں اور عید چلی آئی ہے

خود تو آیا نہیں اور عید چلی آئی ہے
عید کے روز مجھے یوں نہ ستائے کوئی

اُدھر سے چاند تم دیکھو، ادھر سے چاند ہم دیکھیں
نگاہیں یوں ٹکرائیں کہ دو دلوں کی عید ہو جائے

غم ہی غم ہیں تری امید میں کیا رکھا ہے
عید آیا کرے اب عید میں کیا رکھا ہے

تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی
عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

آج چاند رات ہے پر میں کل عید مناؤں کیسے
میرا چاند اب تک خفا ہے مجھ سے ، میں اسے مناؤں کیسے

کچھ تارے تیری پلکوں پہ بھی روشن ہوں گے
کچھ رلائے گا مجھے بھی تیرا غم عید كے دن

‏ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺗﺮﮎ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺎ ﺑﺠﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﻋﯿﺪ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ؟

تیرے کہنے پہ لگائی ہے مہندی میں نے

عید پر اب تو نہ آیا تو قیامت ھوگی

عید کا دن تو ہے مگر جعفرؔ
میں اکیلے تو ہنس نہیں سکتا
جعفر ساہنی

یہ وقت مبارک ہے ملو آکے گلے
پھر ہم سے ہنس کے کہو ذرا عید مبارک

ہے عید میکدے کو چلو دیکھتا ہے کون
شہد و شکر پہ ٹوٹ پڑے روزہ دار آج 
سید یوسف علی خاں ناظم

عید کا چاند جو دیکھا تو تمنا لپٹی
ان سے تقریب ملاقات کا رشتہ نکلا
رحمت قرنی

عید کو بھی وہ نہیں ملتے ہیں مجھ سے نہ ملیں – عید مبارک شاعری

عید کو بھی وہ نہیں ملتے ہیں مجھ سے نہ ملیں
اک برس دن کی ملاقات ہے یہ بھی نہ سہی
شعلہؔ علی گڑھ

اگر حیات ہے دیکھیں گے ایک دن دیدار
کہ ماہ عید بھی آخر ہے ان مہینوں میں
مرزارضا برق ؔ

عید کا دن ہے گلے مل لیجے
اختلافات ہٹا کر رکھیے
عبد السلام بنگلوری

عید کا دن ہے گلے مل لیجے
عید کا دن ہے گلے مل لیجے

تو آئے تو مجھ کو بھی 
عید کا چاند دکھائی دے
ہربنس سنگھ تصور

بادباں ناز سے لہرا کے چلی باد مراد
کارواں عید منا قافلہ سالار آیا
جوشؔ ملیح آبادی

کئی فاقوں میں عید آئی ہے 
آج تو ہو تو جان ہم آغوش 
تاباں عبد الحی

عید میں عید ہوئی عیش کا ساماں دیکھا
دیکھ کر چاند جو منہ آپ کا اے جاں دیکھا
شاد عظیم آبادی

خوشی ہے سب کو روز عید کی یاں
ہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش
میر محمدی بیدار

عشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے
عید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا
شاد لکھنوی

رہنا پل پل دھیان میں
ملنا عید کے عید میں
حسن شاہنواز زیدی

ابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عید – عید مبارک شاعری 

ابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عید 
اے جان یہی ہے مہ شوال ہمارا 
حاتم علی مہر

ابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عیدعید مبارک شاعری
ابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عید

وہاں عید کیا وہاں دید کیا 

جہاں چاند رات نہ آئی ہو 

شارق کیفی

کسی کی یاد منانے میں عید گزرے گی 

سو شہر دل میں بہت دور تک اداسی ہے 

اسحاق وردگ

جہاں نہ اپنے عزیزوں کی دید ہوتی ہے 

زمین ہجر پہ بھی کوئی عید ہوتی ہے 

عین تابش

عید کا چاند تم نے دیکھ لیا
چاند کی عید ہو گئی ہوگی 

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم 

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم 
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی
عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی 

عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی  عید مبارک شاعری

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی
اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں 

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال 

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے 

عید آئی تم نہ آئے کیا مزا ہے عید کا 

عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا 

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں 

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی 

امجد اسلام امجد

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا 

یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے 

دلاور علی آزر

فلک پہ چاند ستارے نکلنے ہیں ہر شب 

ستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاند 

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی 

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی 

ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی 

غلام بھیک نیرنگ

اے ہوا تو ہی اسے عید مبارک کہیو 

اور کہیو کہ کوئی یاد کیا کرتا ہے 

تری پراری

ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیں 

جس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارک 

لیاقت علی عاصم

جو لوگ گزرتے ہیں مسلسل رہ دل سے 

دن عید کا ان کو ہو مبارک تہ دل سے 

عبید اعظم اعظمی

ماہ نو دیکھنے تم چھت پہ نہ جانا ہرگز 

شہر میں عید کی تاریخ بدل جائے گی 

جلیل نظامی

جب تک تمام شہر مہکتا نہ پائیں ہم
کیسے یہ عید کی خوشیاں منائیں ہم 

لبوں پہ رنگ تبسم نہ دل میں موج ِ سرور
میرے وطن کے غریبوں کی عید کیا ہوگی

دن بھر خفا تھی مجھ سے مگر چاند رات کو
مہندی سے میرا نام لکھا اس نے ہاتھ پر

میرا چاند تم ہو میری عید تم ہو

میری آرزوؤں کی تمہید تم ہو
میرا چاند تم ہو میری عید تم ہو

میرا چاند تم ہو میری عید تم ہو
میرا چاند تم ہو میری عید تم ہو

غم کے ماروں کے لیئے درد کا سامان بنا

شام کی گود میں وہ شعلہ نما عید کا چاند

چاند کو دیکھا تو یاد آگئی صورت تری
ہاتھ اٹھے ہیں مگر حرف دعا یاد نہیں

اللہ کرے کہ تم کو مبارک ہو روز عید

ہر راحت و نشاط کا ساماں لیئے ہوئے

نظر جو چاند پہ کی دل میں مسکرائے تم
دعا کو ہاتھ اٹھائے تو یاد آئے تم

کتنے ترسے ہوئے ہیں عیدوں کو

وہ جو عیدوں کی بات کرتے ہیں

جن کے ملنے کا آسرا ہی نہیں
عید ان کا خیال لاتی ہے

میرے قریب آئی نہ اب تک بہار عید
مدت سے ہے جہاں میں مجھے انتظار عید

مجھ کو تیری نہ تجھے میری خبر جائے گی

عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

ہلال عید میں بھی تم مجھے نظر آئے

نہ جانے میرا تصور تھا یا فریب نظر
ہلال عید میں بھی تم مجھے نظر آئے

وفا کا سندیس لے کر اترے تمہارے آنگن میں

گواہ رفاقتوں کا محبتوں کا بن کر ہلال عید

کتنی مشکل سے فلک پر یہ نظر اتا ہے
عید کے چاند نے بھی انداز تمہارے سیکھے

ایک لمحے کو کبھی میں تجھے دیکھا تھا
عمر بھر میری نظر میں نہ جچا عید کا چاند

خود تو آتے نہیں یاد چلی آتی ہے
عید کے روز مجھے یوں نہ ستائے کوئی

ہلال عید بھی نکلا تھا وہ بھی آئے تھے

مگر انہی کی طرف تھی نظر زمانے کی

مزہ بہار کہن کا چکھا ہی جاتی ہے
ہم اہل ہوں کہ نہ ہوں عید آ ہی جاتی ہے

جب تو نہیں تو عید میں رنگ وفا نہیں

سب قسمتوں کے کھیل ہیں تجھ سے گلہ نہیں

پلکوں پہ حسرتوں کے ستارے سجالیئے
اس دھج سے خواہشوں نے کیا اہتمام عید


خلوص کا اظہار کیجئے

Leave a Reply