پروین رحمان کی سالگرہ

پروین رحمان معصوم مسیحہ شہید کو سالگرہ مبارک

خلوص کا اظہار کیجئے

پروین رحمان: کچھ لوگ تاریخ ہوتے ہیں ۔ جو باقی انسانوں کے لئے مشعل راہ، پریرتا اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پروین بھی ان میں سے ایک تھی. لینڈ مافیا کی آنکھوں میں کانٹا مگر غریبوں کی مسیحہ اور فرشتہ تھی جنہیں قتل کر کے شہید کیا گیا۔ آج اس عظیم خاتون کی سالگرہ ہے.

سماجی کارکن، اورنگی پائلٹ پروجیکٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان ، موجودہ بنگلہ دیش کے دار الخلافہ ڈھاکہ 22 جنوری 1957 میں پیدا ہوئی۔ انھیں 13 مارچ 2013 کو قتل کر دیا گیا تھا۔

معصوم مسیحہ پروین رحمان شہید

غریبوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے پاداش میں اس معصوم اور مسیحہ صفت فرشتے فرشتے کو شہید کیا گیا۔

پروین رحمان کا تعلق ایک بہاری خاندان سے تھا ۔ جو 1971 میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں خانہ جنگی کے بعد کراچی منتقل ہو گیا تھا۔ انہوں نے 1982 میں داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے بیچلر آف آرکیٹیکچر کی ڈگری حاصل کی ۔ اور1986 میں روٹرڈیم، نیدرلینڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف ہاؤسنگ اسٹڈیز سے ہاؤسنگ، بلڈنگ اور شہری منصوبہ بندی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ حاصل کیا۔

اورنگی پائلٹ پروجیکٹ سے پہلے

اختر حمید خان کی طرف سے 1983 میں اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی جوائنٹ ڈائریکٹر بننے سے پہلے, پروین نے ایک پرائیویٹ آرکیٹیکچر فرم میں کام کیا ۔ جہاں وہ ہاؤسنگ اور نکاس و صفائی پروگرام کا انتظام سنبھالتی تھیں۔
١٩٨٨ میں، OPP کو چار اداروں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ اور پروین رحمان اورنگی پائلٹ پروجیکٹ – ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (OPP-RTI) کے ڈائریکٹر بن گئی ۔ جس میں تعلیم، نوجوانوں کی تربیت، پانی کی فراہمی، اور محفوظ رہائش کے پروگرام شامل تھے۔

١٩٨٩ میں، انہوں نے این جی او اربن کراچی میں ریسورس سینٹر کی بنیاد رکھی ۔ اور سائبان کے بورڈ کا حصہ بھی تھی

پروین رحمان کی سالگرہ
پروین رحمان کی سالگرہ

پروین رحمان نے کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی، انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر، اور داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھایا ۔ یہ سب روشنیوں کے شہرکراچی میں واقع ہیں۔

وہ مصنفہ اور استاد عقیلہ اسماعیل کی بہن ہیں۔

قتل اور تفتیش

13 مارچ 2013 کو پروین رحمٰن اس وقت ہلاک ہو گئیں ۔ جب پیر آباد پولیس سٹیشن کے قریب ان کی گاڑی پر چار مسلح افراد نے فائرنگ کر دی ۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کے غریبوں کے لیے زمین اور بنیادی خدمات کے حقوق کے لیے 28 سالہ طویل کیریئر اور ایک مضبوط آواز بلند کرنے والی ہستی کا خاتمہ ہو گیا۔ انہیں ایک طبقہ شہید بھی کہتی ہے. وہ مصنفہ اور استاد عقیلہ اسماعیل کی بہن ہیں۔ کراچی میں لینڈ مافیا اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے کھلے عام تنقید کرتی تھیں۔

پروین رحمان کی شخصیت

پروین انتہائی شفیق، حساس، سنجیدہ ، بہادر اور مدبر خاتون تھیں. میری ان سے پہلی ملاقات ٢٠١٠ میں قبو سعید خان تحصیل (سندھ) کے ہمارے ایک گاؤں میں ہوئی تھی۔ جب پاکستان اور بالخصوص سندھ میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں گاؤں کے گاؤں اور غریبوں کے گھر صفحہ ہستی سے مٹ کر بہہ گئے تھے۔

گاؤں وزٹ کرتے ہوے، انکی اچانک نظر گائے کے ایک نوزائدہ بچھڑے پر پڑی۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا “اس گائے کی مالکن سے مجھے اجازت لے کر دیں کے میں اس بچھڑے کو پیار کروں”۔ گائے کی مالکن اس معصوم تمنا پر حیران ہوکر کہا ” یہ بھی بھلا اجازت والی بات ہے آپ چاہیں تو یہ بچھڑا گائے سمیت تحفے میں لے جائیں”۔ پھر پروین نے اس بچھڑے پر اپنے پیار سے ہاتھ پھیرے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ ان کا وہ شفیق لہجہ جب وہ گاؤں وزٹ کرتے ہوے، انکی اچانک نظر گائے کے ایک نوزائدہ بچھڑے پر پڑی۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا! اس گائے کی مالکن سے مجھے اجازت لے کر دیں کے میں اس بچھڑے کو پیار کروں۔ گائے کی مالکن اس معصوم تمنا پر حیران ہوکر کہا ۔ ” یہ بھی بھلا اجازت والی بات ہے آپ چاہیں تو یہ بچھڑا گائے سمیت تحفے میں لے جائیں”۔ پھر پروین نے اس بچھڑے پر اپنے پیار سے ہاتھ پھیرے۔

آج پروین رحمان کی سالگرہ ہے

پروین رحمان
پروین رحمان

غریبوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے پاداش میں اس معصوم اور مسیحہ صفت فرشتے فرشتے کو شہید کیا گیا۔ آج پروین رحمان کی سالگرہ ہے ہم انہیں فیض احمد فیض کی شاعرانہ شردھانجلی پیش کرتے ہیں


قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہانگیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے


خلوص کا اظہار کیجئے

جواب دیں